اپنے ساتھی شیوسیناکے تیکھے حملے کے بعدلیناپڑاایسافیصلہ
ممبئی، 26؍اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)اپنے مجوزہ داخلی سلامتی قانون پر اتحاد ی ساتھی شیوسینا اور اپوزیشن کی تیکھی تنقید کے بعد بی جے پی قیادت والی مہاراشٹر حکومت نے اب ایکٹ کا مسودہ بحث کے لئے کل جماعتی کمیٹی کے سامنے پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ایڈیشنل چیف سیکرٹری کے پی بخشی نے یہاں جاری ایک بیان میں کہا کہ وزیر اعلی کی ہدایات پر مجوزہ مہاراشٹر داخلی سلامتی ایکٹ کا مسودہ بحث کے لئے ایک کل جماعتی کمیٹی کے سامنے پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔بخشی نے کہا کہ اس کے بعد، کابینہ میں مجوزہ مسودہ پر بحث کی جائے گی اور بحث کے بعد، عام لوگوں سے مشورہ اور اعتراضات دورکئے جائیں گے۔آخری شکل میں منظور مسودہ کابینہ کی منظوری کے بعد مقننہ میں بھیجا جائے گا۔حکومت کے رخ پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے اپوزیشن این سی پی کے ایم ایل سی کرن پاوسکر نے کہاکہ وزیر اعلی اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہم ان کو مہاراشٹر میں تاناشاہی راج تھوپنے کی اپنی منصوبہ بندی پر آگے بڑھنے نہیں دیں گے،لہذا انہوں نے اپوزیشن کے ساتھ تبادلہ خیال نہیں کیا،اب، بی جے پی پر شیوسینا کے طمانچے نے انہیں شرمندہ کیا ہے اور وزیر اعلی مجبورا آگے بڑھنے کے لئے اپوزیشن کو آمادہ کرنے کی اب کوشش کر رہے ہیں۔کانگریس کے سیکرٹری الناصر زکریا نے کہا کہ بی جے پی کو اٹل بہاری واجپئی اور لال کرشن اڈوانی جیسے اپنی پارٹی کے سابق لیڈران کے اصول کے خلاف جانے پر شرمندہ ہونا چاہئے جنہوں نے ایمرجنسی کے لئے کانگریس کی ہمیشہ تنقید کی ہے۔زکریا نے سوال کیا کہ کیا یہ لیڈر جنہیں اب ’’مارگ درشک منڈ‘‘میں دھکیل دیا گیا ہے، مودی جی کی قیادت میں اب بی جے پی کے رخ پر اتفاق کریں گے؟ ہم چاہتے ہیں کہ بی جے پی سینئرلیڈران سامنے آئیں اور اس ایکٹ کی مخالفت کریں یا قبول کریں کہ اپنے ایجنڈے کے مطابق پارٹی کے اصول توڑدئے گئے۔